پائے[1]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - گائے، بھینس اور بکری وغیرہ کی اگلی پچھلی ٹانگوں کا وہ حصہ جو پنڈلیوں کے نیچے ہوتا ہے اور اس کا پکا ہوا سالن۔ "روٹی پر - شوربے کی جو پائے کی بوٹی ملی ہے تو روٹی میں چپک پیدا ہو گئی ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، اہلِ محلہ اور نا اہل پڑوسی، ١٧ )

اشتقاق

فارسی اسم 'پا' سے ماخوذ اردو میں اسم 'پایا' کی جمع 'پاے' اردو میں مستعمل ہے۔ سب سے پہلے ١٨٦٧ء میں 'نورالہدایہ' میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - گائے، بھینس اور بکری وغیرہ کی اگلی پچھلی ٹانگوں کا وہ حصہ جو پنڈلیوں کے نیچے ہوتا ہے اور اس کا پکا ہوا سالن۔ "روٹی پر - شوربے کی جو پائے کی بوٹی ملی ہے تو روٹی میں چپک پیدا ہو گئی ہے۔"      ( ١٩٢٣ء، اہلِ محلہ اور نا اہل پڑوسی، ١٧ )

اصل لفظ: پا
جنس: مذکر